Contents
Hamad
مُشتِ گل ہُوں وہ خرامِ ناز دیتا ہے مُجھے
عاصی کرنالی
Hamad
ترا لُطف جس کو چاہے اُسے ضَوفشاں بنا دے
عاصی کرنالی
Hamad
مالکِ ارض و سما فرمانِ راحت بھیج دے
عاصی کرنالی
Hamad
اقلیمِ دو جہاں کے شہنشاہ فضل کر
عاصی کرنالی
Hamad
اے خُدا تُو نے اپنے بندوں کو
عاصی کرنالی
naat
مدحِ میر و قصیدۂ سُلطاں
عاصی کرنالی
naat
ذکر کی محفل جما دینا بھی اُن کی نعت ہے
عاصی کرنالی
naat
لو وُہ آیا اذن لو آقا نے بلوایا مُجھے
عاصی کرنالی
naat
ترے در پر جو کیف آیا کہیں جا کر نہیں آیا
عاصی کرنالی
naat
مَیں پچھلے سال اِن دنوں شھرِ نبیؑ میں تھا
عاصی کرنالی
naat
چلے ہیں اہلِ طلب سُوئے منزلِ مقصُود
عاصی کرنالی
naat
آخری نبّوت کے ایک ایک لمحے میں
عاصی کرنالی