Contents
naat
رُلا دیتی ہے پاکیزہ مدینے کی ہوا مجھ کو
انجم نیازی
naat
مجھے اپنا پُر نور چہرہ دکھا دے
انجم نیازی
naat
کہیں بستی کہیں صحرا نہیں ہے
انجم نیازی
naat
ابھی قدموں کو چُوما ہے ابھی چہرہ نہیں دیکھا
انجم نیازی
naat
میں اکیلا کھڑا ہوں کڑی دُھوپ میں
انجم نیازی
naat
آپؐ کی نعتیں میں لکھ لکھ کر سناؤں آپؐ کو
انجم نیازی
naat
یہ مانا رسولوں کی اک کہکشاں ہے
انجم نیازی
naat
دِل کے ورق ورق پہ ترا نام لکھ دیا
انجم نیازی
naat
یہیں آنکھ انسانیت کی کھلی ہے
انجم نیازی
naat
یہاں شور جائز تھا پہلے نہ اب ہے
انجم نیازی
naat
بہت دیر کی دِل نے وا ہوتے ہوتے
انجم نیازی
naat
وہی تو حُرمتِ لوح و قلم ہے
انجم نیازی