حسانُ العصر محمد علی ظہوری
محمد علی طہوری صاحب کا شمار اُن چند نعت خوانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے فنِ نعت کی نسبت سے عالمی شہرت حاصل کی۔ وہ نعت خواں ہونے کے ساتھ ساتھ نعت گو شاعر بھی تھے اوراکثر اپنے ہی کلام پرھتے تھے انہیں خدمات کی بدولت انہیں حسانِ عصر بھی کہا جاتا ہے۔
محمد علی ظہوری 12 اگست 1932 کو موضع آرائیاں علاقہ نواب صاحب لاہور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد گرامی کا نام حاجی نور محمد نقشبندی تھا جو ایک نہائت درویش صفت انسان تھے انھوں نے بچپن سے ہی محمد علی ظہوری صاحب کو عشق رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم آشنا کردیا جس کی وجہ سے محمد علی ظہوری صاحب کی ساری عمر محبت رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم کے فروغ میں صرف ہوئی۔
ظہورؔی صاحب سترہ برس کی عمر میں میاں ظہور الدین نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ انھوں نے اپنے مرشد کریم کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا اور محمد علی سے محمد علی ظہوری ہوگئے۔ پیشے کے لحاظ سے محمد علی ظہوری صاحب ایک اسکول ٹیچر تھے۔ انھوں نے نعت خوانوں کی تربیت کے لیے مجلس حسان کے نام سے ایک ادارہ 1966ء میں قائم کیا تھا۔ نعت گوئی اور نعت خوانی کی پاکیزہ روایت کو ایک مستند حیثیت سے فروغ دینے میں مجلس حسان کی شب و روز کوششوں کا ثمر بھی شامل ہے اور اس مجلس حسان نے قاری زبید رسول اور عبدالستار نیازی جیسے عظیم نعت خواں جیسے نعت خواں پیدا کیے۔
محمد علی ظہوری صاحب کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انکی وفات کے بعد اُنکی تصنیف شدہ کتاب نوائے ظہوری کو حکومت پاکستان کی طرف سے قومی سیرت ایوارڈ سے نوازا گیا۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں محمد علی ظہوری پیغام پھیلانے کے لیے اُن کے بیٹے محمد فیضاں ظہوری فیس بک اور یوٹیوب پر اپنی خدمات ادا کررہے ہیں۔ محمد فیضان ظہوری کےزاتی سوشل میڈیا پروافا ئل درج زیل ہیں۔
https://www.facebook.com/sahibzadafaizan.zahoori
https://youtube.com/user/ibnezahoori2009
اطلاع برائے کاپی رائٹس
محمد علی ظہوری کے شامل کردہ کلام کے کاپی رائٹس ان کے نام سے محفوظ ہیں۔ نعت لائبریری ٹیم نے ان کے بیٹے محمد فیضان ظہوری کی اجازت سے کلام شامل کیے ہیں