Loading...
naat

دل حزیں دُوری مدینہ کے غم تجھے کیوں ستارہے ہیں

دل حزیں دُوری مدینہ کے غم تجھے کیوں ستارہے ہیں بلائیں گے جب حضور در پر وہ دن بھی نزدیک آ رہے ہیں
Dil hazine dori madinah ke gham tujhe kyun sata rahe hain Bulayenge jab Huzoor dar par woh din bhi nazdeek aa rahe hain
یہ کیف کیا ہے سرور کیا ہے یہ رنگ کیا ہے یہ نور کیا ہے یہ حُسن حسن محمدی ہے اس سے گھر جگمگا رہے ہیں
Yeh kaif kya hai saroor kya hai yeh rang kya hai yeh noor kya hai Yeh husn hassan Muhammadi hai is se ghar jagmaga rahe hain
لحد میں پوچھیں گے جب فرشتے نبی کے بارے میں کون ہیں یہ کہوں گا میں میری مشکلوں میں یہی تو مشکل کشا رہے ہیں
Lahd mein poochenge jab farishte Nabi ke baare mein kaun hain yeh Kahunga main meri mushkilon mein yahi to mushkil kusha rahe hain
نبی کی محفل سجا سجا کر صدائیں دیکر بلا بلا کر نبی کی نعتوں کے جام بھر کر ہم عاشقوں کو پلا رہے ہیں
Nabi ki mehfil saja saja kar sadaen de kar bula bula kar Nabi ki naaton ke jaam bhar kar hum aashiqon ko pila rahe hain
گھڑی یہ کیسی حسیں گھڑی ہے فضائے گلشن مہک رہی ہے ہوا مدینے کی کہہ گئی ہے حضور تشریف لا رہے ہیں
Ghari yeh kaisi haseen ghari hai faza e gulshan mehk rahi hai Hawa madine ki keh gayi hai Huzoor tashreef la rahe hain
جو سرور دیں سے نین لاگے جہاں کے منگتوں کے بھاگ جاگے سکندری کیا ہے ان کے آگے جو ان کے بن کر گدا رہے ہیں
Jo sarur-e-deen se nain lage jahan ke mangton ke bhag jaage Sikandari kya hai unke aage jo unke ban kar gada rahe hain
سخا نرالی ہے مصطفے کی نہیں ہے تخصیص کچھ گدا کی کریم اپنے کرم کا صدقہ لٹا رہے ہیں لٹا رہے ہیں
Sakha nirali hai Mustafa ki nahin hai takhsees kuch gada ki Kareem apne karam ka sadqa luta rahe hain luta rahe hain
بڑا ہی اُمت کا ان کو غم ہے بتاؤ تم کیا کرم یہ کم ہے کہ آگ دوزخ کی آنسوؤں سے شفیع امت بجھا رہے ہیں
Bara hi ummat ka unko gham hai batao tum kya karam yeh kam hai Ke aag dozakh ki aansuon se shafi e ummat bujha rahe hain
جو ذکر کرتے ہیں مصطفے کا مری سمجھ میں ہے آیا اتنا مدینے والے کا نام لیکر نصیب اپنے جگا رہے ہیں
Jo zikr karte hain Mustafa ka meri samajh mein hai aaya itna Madinay wale ka naam le kar naseeb apne jaga rahe hain
کریم کی ہے کرم نوازی مرا تو ایمان ہے نیازی سجانے والے نبی کی محفل بہشت میں گھر بنا رہے ہیںدل حزیں دُوری مدینہ کے غم تجھے کیوں ستارہے ہیں
Kareem ki hai karam nawazee mera to iman hai Niazi Sajane wale Nabi ki mehfil behisht mein ghar bana rahe hain
بلائیں گے جب حضور در پر وہ دن بھی نزدیک آ رہے ہیں یہ کیف کیا ہے سرور کیا ہے یہ رنگ کیا ہے یہ نور کیا ہے
یہ حُسن حسن محمدی ہے اس سے گھر جگمگا رہے ہیں لحد میں پوچھیں گے جب فرشتے نبی کے بارے میں کون ہیں یہ
کہوں گا میں میری مشکلوں میں یہی تو مشکل کشا رہے ہیں نبی کی محفل سجا سجا کر صدائیں دیکر بلا بلا کر
نبی کی نعتوں کے جام بھر کر ہم عاشقوں کو پلا رہے ہیں گھڑی یہ کیسی حسیں گھڑی ہے فضائے گلشن مہک رہی ہے
ہوا مدینے کی کہہ گئی ہے حضور تشریف لا رہے ہیں جو سرور دیں سے نین لاگے جہاں کے منگتوں کے بھاگ جاگے
سکندری کیا ہے ان کے آگے جو ان کے بن کر گدا رہے ہیں سخا نرالی ہے مصطفے کی نہیں ہے تخصیص کچھ گدا کی
کریم اپنے کرم کا صدقہ لٹا رہے ہیں لٹا رہے ہیں بڑا ہی اُمت کا ان کو غم ہے بتاؤ تم کیا کرم یہ کم ہے
کہ آگ دوزخ کی آنسوؤں سے شفیع امت بجھا رہے ہیں جو ذکر کرتے ہیں مصطفے کا مری سمجھ میں ہے آیا اتنا
مدینے والے کا نام لیکر نصیب اپنے جگا رہے ہیں کریم کی ہے کرم نوازی مرا تو ایمان ہے نیازی
سجانے والے نبی کی محفل بہشت میں گھر بنا رہے ہیں

Share This Naat

Share with friends and family

Noor-e-Sukhan

دل حزیں دُوری مدینہ کے غم تجھے کیوں ستارہے ہیں

عبدالستار نیازی