Chapter 8
فضائل قرآن کا بیان
كتاب فضائل القرآن
The Excellent Qualities of the Qur'an
2109
sahih
عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ من تعلم الْقُرْآن وَعلمه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور (دوسروں کو) سکھایا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
2110
sahih
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْم إِلَى بطحان أَو إِلَى العقيق فَيَأْتِي مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رحم» فَقُلْنَا يَا رَسُول الله نُحِبُّ ذَلِكَ قَالَ: «أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ الله عز وَجل خير لَهُ من نَاقَة أَو نَاقَتَيْنِ وَثَلَاثٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِل» . رَوَاهُ مُسلم
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے جبکہ ہم صفہ میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ وہ ہر روز صبح کے وقت وادی بطحان یا وادی عقیق جائے اور کسی گناہ اور قطع رحمی کا ارتکاب کیے بغیر وہاں سے بڑی کوہان والی دو اونٹنیاں لے آئے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم سب اسے پسند کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی صبح کے وقت مسجد کیوں نہیں آتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے دو آیتیں سیکھے یا پڑھے ، تو یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین (آیتیں) اس کے لیے تین (اونٹنیوں) سے اور چار ، چار سے بہتر ہیں ، اور وہ جتنی زیادہ ہوں گی ، وہ اتنی ہی اونٹنیوں سے بہتر ہوں گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
2111
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ» . قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ «فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صلَاته خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر جائے تو وہاں تین بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیاں پائے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں تین آیات پڑھتا ہے تو وہ (تین آیات) اس کے لیے تین موٹی تازی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
2112
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شاق لَهُ أَجْرَانِ»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ماہر قرآن ، اطاعت گزار معزز لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا ، اور جو شخص اٹک اٹک کر قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس پر دشوار ہوتا ہے تو اس کے لیے دہرا اجر ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
2113
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا حَسَدَ إِلَّا على اثْنَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَار
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا جائز ہے ، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن (کا علم) عطا کیا ہو اور وہ دن رات اس (کی تلاوت و عمل) کا اہتمام کرتا ہو ، اور ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال عطا کیا ہو اور وہ دن رات اس میں سے خرچ کرتا ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
2114
sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مثل الْمُؤمن الَّذِي يقْرَأ الْقُرْآن كَمثل الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طِيبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يقْرَأ الْقُرْآن كَمثل التمرة لَا ريح لَهَا وطعمها حلوومثل الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يقْرَأ الْقُرْآن مثل الريحانة رِيحهَا طيب وَطَعْمُهَا مَرٌّ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالْأُتْرُجَّةِ وَالْمُؤْمِنُ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالتَّمْرَةِ»
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قرآن کی تلاوت کرنے والا مومن نارنگی کی طرح ہے اس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور وہ خوش ذائقہ بھی ہے ، اور قرآن کی تلاوت نہ کرنے والا مومن کھجور کی طرح ہے ، جس کی خوشبو نہیں لیکن اس کا ذائقہ شیریں ہے ، اورر قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال تمے کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے جبکہ قرآن پڑھنے والا منافق نازبو کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی ہے اور ذائقہ کڑوا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والا مومن ترنجبین کی مثل ہے جبکہ قرآن نہ پڑھنے والا لیکن اس پر عمل کرنے والا مومن کھجور کی طرح ہے ۔‘‘
2115
sahih
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن الله يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ» . رَوَاهُ مُسلم
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ ، اس کتاب کے ذریعے کچھ لوگوں کو رفعت عطا فرماتا ہے اور کچھ لوگوں کو پستی کا شکار کر دیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
2116
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أُسَيْدَ بنَ حُضَيْرٍ قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ مَرْبُوطَةٌ عِنْدَهُ إِذْ جَالَتِ الْفرس فَسكت فَسَكَتَتْ فَقَرَأَ فجالت الْفرس فَسكت فَسَكَتَتْ الْفرس ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ فَانْصَرَفَ وَكَانَ ابْنُهُ يحيى قَرِيبا مِنْهَا فأشفق أَن تصيبه فَلَمَّا أَخَّرَهُ رَفْعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ» . قَالَ فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَطَأَ يحيى وَكَانَ مِنْهَا قَرِيبا فَرفعت رَأْسِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ وَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ فَخَرَجَتْ حَتَّى لَا أَرَاهَا قَالَ: «وَتَدْرِي مَا ذَاكَ؟» قَالَ لَا قَالَ: «تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا لَا تَتَوَارَى مِنْهُمْ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ وَفِي مُسْلِمٍ: «عرجت فِي الجو» بدل: «خرجت على صِيغَة الْمُتَكَلّم»
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ اُسید بن حضیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ رات کے وقت سورۂ بقرہ تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس بندھا ہوا تھا کہ گھوڑا اچانک اچھلنے لگا ، وہ خاموش ہو گئے تو وہ (گھوڑا) بھی ٹھہر گیا ، انہوں نے پھر پڑھا تو گھوڑا پھر اچھلنے لگا وہ خاموش ہو گئے تو وہ (گھوڑا) بھی ٹھہر گیا ۔ انہوں نے پھر پڑھا تو گھوڑا پھر اچھلنے لگا ، وہ فارغ ہوئے ، اور ان کا بیٹا یحیی اس (گھوڑے) کے قریب ہی تھا ، لہذا انہیں اندیشہ ہوا کہ وہ اسے نقصان نہ پہنچائے اور جب انہوں نے اسے دور کیا ، اور آسمان کی طرف سر اٹھایا تو سائبان سا دکھائی دیا جس میں چراغوں کی طرح روشنی تھی ، جب صبح ہوئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابن حضیر ! پڑھ ، ابن حضیر ! تم پڑھتے رہتے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! مجھے اندیشہ ہوا کہ (اگر میں پڑھتا رہتا تو) وہ یحیی کو روند ڈالتا ، کیونکہ وہ اس کے قریب تھا ، لہذا میں اس کی طرف متوجہ ہو گیا ، میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو (اوپر) سائبان کی طرح کوئی چیز تھی اور اس میں چراغوں جیسی کوئی چیز تھی ، میں باہر نکلا حتیٰ کہ میں نے اس (روشنی) کو نہ دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم جانتے ہو وہ کیا تھا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، فرمایا :’’ وہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز کے قریب آ گئے تھے ، اگر تم پڑھتے رہتے تو وہ وہیں رہتے اور لوگ انہیں دیکھ لیتے اور وہ ان سے مخفی نہ رہتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور یہ الفاظ حدیث بخاری کے ہیں ، اور صحیح مسلم میں ہے :’’ میں باہر نکلا ‘‘ صیغہ متکلم کے بدل لفظ :’’ وہ فضا میں بلند ہو گئے ‘‘ استعمال ہوا ہے ۔
2117
sahih
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَإِلَى جَانِبِهِ حِصَانٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدْنُو وَتَدْنُو وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «تِلْكَ السكينَة تنزلت بِالْقُرْآنِ»
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ایک آدمی سورۂ کہف پڑھ رہا تھا ، اور اس کے ایک جانب ایک گھوڑا دو مضبوط رسیوں سے بندھا ہوا تھا ، پس بادل کے ٹکڑے نے اس (آدمی) کو ڈھانپ لیا اور وہ اس کے قریب سے قریب تر ہونے لگا ، جبکہ اس کا گھوڑا بدکنے لگا ، جب صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ سکینت تھی جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی تھی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
2118
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَلم أجبه حَتَّى صليت ثُمَّ أَتَيْتُهُ. فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كنت أُصَلِّي فَقَالَ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ (اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دعَاكُمْ) ثمَّ قَالَ لي: «أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ» . فَأَخَذَ بِيَدِي فَلَمَّا أَرَادَ أَن يخرج قلت لَهُ ألم تقل لأعلمنك سُورَة هِيَ أعظم سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ: (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتهُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوسعید بن معلی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا ، میں نے آپ کی آواز پر لبیک کہی ، پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نماز پڑھ رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا اللہ نے نہیں فرمایا ! جب اللہ اور اس کا رسول تمہیں بلائیں تو تم ان کی اطاعت کرو ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں ، اس سے پہلے کہ تم مسجد سے باہر نکلو ، تمہیں قرآن کی عظیم سورت نہ سکھاؤں ؟‘‘ آپ نے مجھے ہاتھ سے پکڑ لیا ، جب ہم نے مسجد سے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا تھا کہ میں تمہیں قرآن کی عظیم تر سورت سکھاؤں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (الحمد للہ رب العالمین) ’’ سورۂ فاتحہ ‘‘ وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
End of Chapter