Chapter 22
قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
كتاب الأيمان والنذور
Oaths and Vows (Kitab Al-Aiman Wa Al-Nudhur)
3242
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ مَصْبُورَةٍ كَاذِبًا، فَلْيَتَبَوَّأْ بِوَجْهِهِ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
ہم سے محمد بن صباح البزاز نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں ہشام بن حسن نے خبر دی، وہ محمد بن سیرین کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی دباؤ میں آ کر ( یا دیدہ و دانستہ ) جھوٹی قسم کھا لے تو چاہیئے کہ اس کے سبب وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔
Narrated Imran Ibn Husayn رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone swears a false oath in confinement, he should make his seat in Hell on account of his (act).
3243
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَقَالَ الْأَشْعَثُ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا [سورة آل عمران آية 77] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ہم سے محمد بن عیسیٰ اور ہناد بن السری المعنی نے بیان کیا, ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ہم سےاعمش نے، شقیق کی سند سے بیان کیا, عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات پر جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا ۔ اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات میرے ایک مقدمے میں ( جو میرے اور ایک یہودی کے درمیان تھا ) فرمائی تھی، میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا تو میں اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس گواہ ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قسم کھا کر میرا مال ہڑپ کر لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ( سورۃ آل عمران: ۷۷ ) آخیر تک نازل فرمائی ۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: He who swears an oath in which he tells a lie to take the property of a Muslim by unfair means, will meet Allah while He is angry with him. Al-Ashath رضی اللہ عنہ said: I swear by Allah, he said this about me. There was some land between me and a Jew, but he denied it to me; so I presented him to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم asked me: Have you any evidence? I replied: No. He said to the Jew: Take an oath. I said: Messenger of Allah, now he will take an oath and take my property. So Allah, the Exalted, revealed the verse, As for those who sell the faith they owe to Allah and their own plighted word for a small price, they shall have no portion in the hereafter.
3244
Sahih
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، وَهِيَ فِي يَدِهِ، قَالَ: هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي، اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ، فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيّ لِلْيَمِينِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقْتَطِعُ أَحَدٌ مَالًا بِيَمِينٍ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضُهُ .
ہم سے محمود بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے حارث بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے کردوس نے بیان کیا, اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں کندہ کے ایک آدمی اور حضر موت کے ایک آدمی نے جھگڑا کیا اور دونوں اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! میری زمین کو اس شخص کے باپ نے مجھ سے چھین لی تھی اور اب وہ زمین اس شخص کے قبضہ میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس «بیّنہ» ( ثبوت اور دلیل ) ہے؟ اس نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے قسم دلانا چاہوں گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ میری زمین ہے جسے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لی تھی، ( یہ سن کر ) کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت ) فرمایا: جو شخص کسی کا مال قسم کھا کر ہڑپ کر لے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ سے کوڑھی ہو کر ملے گا ( یہ سنا تو ) کندی نے کہا: یہ اسی کی زمین ہے۔
Narrated Al-Ashath Ibn Qays رضی اللہ عنہ :
A man of Kindah and a man of Hadramawt brought their dispute to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم about a land in the Yemen. Al-Hadrami said: Messenger of Allah, the father of this (man) usurped my land and it is in his possession. The Prophet asked: Have you any evidence? Al-Hadrami replied: No, but I make him swear (that he should say) that he does not know that it is my land which his father usurped from me. Al-Kindi became ready to take the oath. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone usurps the property by taking an oath, he will meet Allah while his hand is mutilated. Al-Kindi then said: It is his land.
3245
Sahih
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَكَ يَمِينُهُ ؟، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَاكَ، فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَهُ، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالٍ لِيَأْكُلَهُ ظَالِمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ .
ہم سے ہناد بن سری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواس نے سماک کی سند سے، ان سے علقمہ بن وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا
حضر موت کا ایک شخص اور کندہ کا ایک شخص دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی ایک زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: واہ یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے میں خود اس میں کھیتی کرتا ہوں اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو تمہارے لیے اس کی جانب سے قسم ہے ( جیسی وہ قسم کھا لے اسی کے مطابق فیصلہ ہو جائے گا ) ، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول: وہ تو فاجر ہے کسی بھی قسم کی پرواہ نہیں کرتا، کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( وہ کچھ بھی ہو ) تمہارے لیے تو بس اس سے اتنا ہی حق ہے ( یعنی تم اس سے بس قسم کھلا سکتے ہو ) پھر وہ قسم کھانے چلا، تو اس کے مڑتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اگر کسی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے اس نے جھوٹی قسم کھا لی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے منہ پھیرے ہو گا ۔
Narrated Alqamah bin Wail bin Hujr al-Hadrami رضی اللہ عنہ : On the Authority of his father: A man from Hadramawt and a man of Kindah came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. Al-Hadrami said: Messenger of Allah, this (man) took away forcibly from me the land which belongs to my father. Al-Kindi said: It is my land in my possession, and I cultivate it, he has no right to it. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم then said to al-Hadrami: Have you any proof ? He said: No. He then said: So for you is his oath. He said: Messenger of Allah, he is liar, he does not care for which he is taking the oath. He does not refrain himself from anything. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: You will have nothing from him except that. He went to take an oath for him. When he turned his back, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If he takes an oath on the property to take it away by unfair means, he will meet Allah while He is unmindful of him.
3246
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نِسْطَاسٍ مِنْ آلِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ، وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ، إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، أَوْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ .
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیا، کہا کہ مجھے کثیر بن الصلت کے خاندان سے عبداللہ بن نسطاس نے خبر دی، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے گا اگرچہ ایک تازی مسواک کے لیے کھائے تو سمجھ لو اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا یا یہ کہا: جہنم اس پر واجب ہو گئی ۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: One should not take a false oath at this pulpit of mine even on a green tooth-stick; otherwise he will make his abode in Hell, or Hell will be certain for him.
3247
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ فِي حَلْفِهِ: وَاللَّاتِ، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ .
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، وہ حمید بن عبدالرحمٰن سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی قسم کھائے اور اپنی قسم میں یوں کہے کہ میں لات کی قسم کھاتا ہوں تو چاہیئے کہ وہ «لا إله إلا الله» کہے، اور جو کوئی اپنے دوست سے کہے کہ آؤ ہم تم جوا کھیلیں تو اس کو چاہیئے کہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے ( تاکہ شرک اور کلمہ شرک کا کفارہ ہو جائے ) ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone swears on oath is the course which he says: By al-Lat he should say: There is no god but Allah, and that if anyone says to his friend: Come and let me play for money with you, he should give something in charity (sadaqah).
3248
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ، وَلَا بِالْأَنْدَادِ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا تَحْلِفُوا بِاللَّهِ إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ .
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے عوف نے بیان کیا، محمد بن سیرین سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، نہ اپنی ماؤں کی قسم کھانا، اور نہ ان کی قسم کھانا جنہیں لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، تم صرف اللہ کی قسم کھانا، اور اللہ کی بھی قسم اسی وقت کھاؤ جب تم سچے ہو ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not swear by your fathers, or by your mothers, or by rivals to Allah; and swear by Allah only, and swear by Allah only when you are speaking the truth.
3249
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَهُ وَهُوَ فِي رَكْبٍ، وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا، فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَسْكُتْ .
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن عمر سے اور نافع کی سند سے, بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں پایا کہ وہ ایک قافلہ میں تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے روکتا ہے اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہے تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے ۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم found Umar al-Khattab in a caravan while he was swearing by his father. So he said: Allah forbids you to swear by forefathers. If anyone swears, he must swear by Allah or keep silence.
3250
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ مَعْنَاهُ إِلَى بِآبَائِكُمْ زَادَ، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَذَا ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے، زہری کی سند سے، سلیم سے اپنے والد سے,عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ,مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غیر اللہ کی قسم کھاتے ہوئے ) سنا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث:«بآبائكم» تک بیان کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا
قسم اللہ کی پھر میں نے نہ جان بوجھ کر اس کی قسم کھائی، اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators to the same effect up to the words by your fathers . This version adds: Umar رضی اللہ عنہ said:
I swear by Allah, I never swore by it personally or reporting it from others.
3251
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعَابْنُ عُمَرَ رَجُلًا يَحْلِفُ لَا وَالْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ .
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے حسن بن عبید اللہ کو سنا, سعد بن عبیدہ کہتے ہیں
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو کعبہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھائی تو اس نے شرک کیا ۔
Sa'd Ibn Ubaydah said:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما heard a man swearing: No, I swear by the Kabah. Ibn Umar رضی اللہ عنہما said to him: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: He who swears by anyone but Allah is polytheist.
End of Chapter