Chapter 18
وصیت کے احکام و مسائل
كتاب الوصايا
Wills (Kitab Al-Wasaya)
2862
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ .
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ کی سند سے، مجھ سے نافع نے بیان کیا,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ہو مناسب نہیں ہے کہ اس کی دو راتیں بھی ایسی گزریں کہ اس کی لکھی ہوئی وصیت اس کے پاس موجود نہ ہو ۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: It is the duty of a Muslim man who has something which is to be given as bequest not to have it for two nights without having his will written regarding it.
2863
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ.
ہم سے مسدد اور محمد بن العلاء نے بیان کیا: ہم سے ابو معاویہ نے العمش کی سند سے، ابو وائل کی سند سے، مسروق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی وفات کے وقت ) دینار و درہم، اونٹ و بکری نہیں چھوڑی اور نہ کسی چیز کی وصیت فرمائی ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not leave dinars, dirhams, camels and goats, nor did he leave will for anything.
2864
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرِضَ مَرَضًا، قَالَ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ بِمَكَّةَ، ثُمَّ اتَّفَقَا أَشْفَى فِيهِ فَعَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِالثُّلُثَيْنِ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَبِالشَّطْرِ قَالَ: لَا، قَالَ: فَبِالثُّلُثِ قَالَ: الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى اللُّقْمَةُ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي ؟ قَالَ: إِنَّكَ إِنْ تُخَلَّفْ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ لَا تَزْدَادُ بِهِ إِلَّا رِفْعَةً وَدَرَجَةً لَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ، لَكِنَ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور ابن ابی خلف نے بیان کیا: ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے، عامر بن سعد سے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ )سے، انہوں نے کہا
وہ بیمار ہوئے ( ابن ابی خلف کی روایت میں ہے: مکہ میں، آگے دونوں راوی متفق ہیں کہ ) اس بیماری میں وہ مرنے کے قریب پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عیادت فرمائی، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں بہت مالدار ہوں اور میری بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پوچھا: کیا آدھا مال صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پھر پوچھا: تہائی مال خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تہائی مال ( دے سکتے ہو ) اور تہائی مال بھی بہت ہے، تمہارا اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ کر جاؤ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور جو چیز بھی تم اللہ کی رضا مندی کے لیے خرچ کرو گے اس کا ثواب تمہیں ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ اٹھا کر دو گے تو اس کا ثواب بھی پاؤ گے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے جائیں گے، اور میں اپنی بیماری کی وجہ سے مکہ ہی میں رہ جاؤں گا، جب کہ صحابہ مکہ چھوڑ کر ہجرت کر چکے تھے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم پیچھے رہ گئے، اور میرے بعد میرے غائبانہ میں بھی نیک عمل اللہ کی رضا مندی کے لیے کرتے رہے تو تمہارا درجہ بلند رہے گا، امید ہے کہ تم زندہ رہو گے، یہاں تک کہ تمہاری ذات سے کچھ اقوام کو فائدہ پہنچے گا اور کچھ کو نقصان و تکلیف ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ: اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت مکمل فرما، اور انہیں ان کے ایڑیوں کے بل پیچھے کی طرف نہ پلٹا ، لیکن بیچارے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رنج و افسوس کا اظہار فرماتے تھے کہ وہ مکہ ہی میں انتقال فرما گئے ۔
Narrated Amir bin Saad: On the authority of his father (Saad bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ ):
When he (Saad) fell ill at Makkah (according to the version of Ibn Abi Kkalaf) - then the agreed version has: which brought him near to death - the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went to visit him. He said: Messenger of Allah, I have a large amount of property, and my daughter is my only heir. May I give two-thirds (of my property) as a sadaqah (charity)? He said: No. He asked: Then a half ? He replied: No. He asked: Then one-third ? He replied: (You may will away) a third and third is a lot. To leave your heirs rich is better than to leave them poor begging from people. You will not spend anything, seeking thereby to please Allah, without being rewarded for it, even the mouthful you give your wife. I said: Messenger of Allah, shall I be left behind form immigration (to Madina)? He said: If you remain behind after me and do good works seeking the pleasure of Allah, your rank will be raised and degree increased. Perhaps you will not remain behind, and some people will benefit from you and others will be harmed by you. He then said: O Allah, complete the immigration of my Companions and do not turn them back. But miserable was Saad bin Khawlah رضی اللہ عنہ. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم lamented on him as he died at Makkah.
2865
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ حَرِيصٌ تَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَتَخْشَى الْفَقْرَ وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ، قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ.
ہم سے مصدّد نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے عمرہ بن قعقاع نے بیان کیا، وہ ابو زرعہ بن عمرو بن جریر رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جسے تم صحت و حرص کی حالت میں کرو، اور تمہیں زندگی کی امید ہو، اور محتاجی کا خوف ہو، یہ نہیں کہ تم اسے مرنے کے وقت کے لیے اٹھا رکھو یہاں تک کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو کہ: فلاں کو اتنا دے دینا، فلاں کو اتنا، حالانکہ اس وقت وہ فلاں کا ہو چکا ہو گا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
A man asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم: Messenger of Allah, which sadaqah (charity) is the best ? He replied: (The best sadaqah is) that you give something as sadaqah (charity) when you are healthy, greedy, expect survival and fear poverty, and not that you postpone it until your death. and then you say: For so-and-so is such-and-such, and for so-and-so is such-and-such, while it was already for so-and-so.
2866
Da`eef
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ بِدِرْهَمٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمِائَةِ دِرْهَمٍ عِنْدَ مَوْتِهِ .
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا، انہیں ابن ابی ذہب نے شرحبیل کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا اپنی زندگی میں ( جب تندرست ہو ) ایک درہم خیرات کر دینا اس سے بہتر ہے کہ مرتے وقت سو درہم خیرات کرے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A man giving a dirham as sadaqah (charity) during his life is better than giving one hundred dirhams as sadaqah (charity) at the moment of his death.
2867
Da`eef
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْصَّمَدِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُدَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةُ بِطَاعَةِ اللَّهِ سِتِّينَ سَنَةً، ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ ، قَالَ: وَقَرَأَ عَلَيَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ هَا هُنَا مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يَعْنِي الأَشْعَثَ بْنَ جَابِرٍ، جَدُّ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.
ہم سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبد الصمد نے خبر دی، ہم سے نصر بن علی الہدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے اشعث بن جبیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے شہر بن حوشب نے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد اور عورت دونوں ساٹھ برس تک اللہ کی اطاعت کے کام میں لگے رہتے ہیں، پھر جب انہیں موت آنے لگتی ہے، تو وہ غلط وصیت کر کے وارثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ( کسی کو محروم کر دیتے ہیں، کسی کا حق کم کر دیتے ہیں ) تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے ۔ شہر بن حوشب کہتے ہیں: اس موقع پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ «من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار» پڑھی یہاں تک کہ «ذلك الفوز العظيم» پر پہنچے۔ یعنی ( اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو، یہ مقرر کیا ہوا اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار، یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ( سورۃ النساء: ۱۱، ۱۲ ) ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی اشعت بن جابر، نصر بن علی کے دادا ہیں۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A man or a woman acts in obedience to Allah for sixty years, then when they are about to die they cause injury by their will, so they must go to Hell. Then Abu Hurairah recited: After a legacy which you bequeath or a debt, causing no injury. . . that will be the mighty success. Abu Dawud said: Al-Ashath bin Jabir is the grandfather of Nasr bin Ali.
2868
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي، فَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد: تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ مِصْرَ.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے ابو عبدالرحمٰن المقری نے بیان کیا، ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ بن ابی جعفر نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی سالم الجیشانی نے اپنے والد سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں تمہیں ضعیف دیکھتا ہوں اور میں تمہارے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں، تو تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ ہونا، اور نہ یتیم کے مال کا ولی بننا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کی روایت کرنے میں اہل مصر منفرد ہیں۔
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to me: Abu Dharr, I see you weak, and I like for you what I like for myself. Do not be a leader of two (persons), and do not be a guardian of an orphan. Abu Dawud said: This has been narrated only by the people of Egypt.
2869
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ سورة البقرة آية 180 فَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ كَذَلِكَ حَتَّى نَسَخَتْهَا آيَةُ الْمِيرَاثِ.
ہم سے احمد بن محمد المروازی نے بیان کیا، مجھ سے علی بن حسین بن واقد نے اپنے والد سے، یزید النحوی سے، عکرمہ کی سند سے،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
آیت کریمہ: «إن ترك خيرا الوصية للوالدين والأقربين» اگر مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے اچھائی کے ساتھ وصیت کر جائے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۰ ) ، وصیت اسی طرح تھی ( جیسے اس آیت میں مذکور ہے ) یہاں تک کہ میراث کی آیت نے اسے منسوخ کر دیا۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Quranic verse goes: (It is prescribed when death approaches any of you), if he leaves any goods, that he may bequest to parents and next to kin. The bequest was made in this way until the verse of inheritance repealed it.
2870
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ .
ہم سے عبد الوہاب بن نجدہ نے بیان کیا، ہم سے ابن عیاش نے بیان کیا، وہ شر حبیل بن مسلم کی سند سے,ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کہ اللہ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے لہٰذا اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ۔
Narrated Abu Umammah رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Allah has appointed for everyone who has a right what is due to him, and no bequest must be made to an heir.
2871
Da`eef
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سورة الأنعام آية 152 وَ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا سورة النساء آية 10 الآيَةَ، انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَتِيمٌ فَعَزَلَ طَعَامَهُ مِنْ طَعَامِهِ وَشَرَابَهُ مِنْ شَرَابِهِ، فَجَعَلَ يَفْضُلُ مِنْ طَعَامِهِ فَيُحْبَسُ لَهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ أَوْ يَفْسُدَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ سورة البقرة آية 220، فَخَلَطُوا طَعَامَهُمْ بِطَعَامِهِ وَشَرَابَهُمْ بِشَرَابِهِ.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے، عطاء کی سند سے، سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
جب اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو مستحسن ہے ( سورۃ الانعام: ۱۵۲ ) : اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں ( سورۃ النساء: ۱۰ ) نازل فرمائی تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے جدا کر دیا تو یتیم کا کھانا بچ رہتا یہاں تک کہ وہ اسے کھاتا یا سڑ جاتا، یہ امر لوگوں پر شاق گزرا تو انہوں نے اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو اللہ نے یہ آیت «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير وإن تخالطوهم فإخوانكم» اور تجھ سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے، تم اگر ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ( سورۃ البقرہ: ۲۲۰ ) اتاری تو لوگوں نے اپنا کھانا پینا ان کے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
When Allah, Most High, revealed the verses: Come not nigh to the orphan's property except to improve it . And Those who unjustly eat up the property of orphans , everyone who had an orphan with him went and separated his food from his (orphan's) food, and his drink from his drink, and began to detain the remaining food which he (the orphan) himself ate or spoiled. This fell heavy on them, and they mentioned this to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. So Allah, Most High, revealed the verse: They ask thee concerning orphans. Say: The best thing to do is what is for their good; if ye mix their affairs with yours, they are your brethren. Then they mixed their food with his food and their drink with his drink.
End of Chapter