حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ، نواسۂ رسول ﷺ، اسلامی تاریخ کی وہ روشن ہستی ہیں جن کی شخصیت سچائی، بہادری اور قربانی کی علامت ہے۔ آپ کا کردار نہایت پاکیزہ، دل سوز، اور عدل و انصاف سے لبریز تھا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا کے میدان میں ظلم و باطل کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو کر حق کی سربلندی کا ایسا درس دیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ آپ نے باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی، تاکہ اسلام کی اصل روح باقی رہے۔ آپ کی قربانی محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے کہ سچ اور اصولوں پر ڈٹے رہنا ہی اصل ایمان ہے۔ آج بھی امام حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت اہلِ ایمان کے لیے ہدایت و حوصلے کا چراغ ہے۔
حضرت امام حُسین (رضی اللہ عنہ) کی منقبت درج ذیل ہیں۔
- شاہ سوار کربلا کی شہسواری کو سلام
- حسین: سچائی ہے، وفا ہے
- طلوع ہوتے ہوئے سویرے
- وہ امام: یقین، جان، حق، روحِ دین
- ہر دکھ یزیدیوں سے اٹھایا حسین نے
- کیسے لڑیں گے غم سے؟ یہ ولولہ ملا ہے
- زمین پہ رب نے اتارا: حسین ابنِ علی
- سروہ ہے جو کٹے اسلام کی خدمت کے لیے
- غمِ شہادتِ شبیر کی گواہی دے
- سینکڑوں سال ہوئے جب نہ ملا تھا پانی
- سایۂ مصطفیٰ: حسین
- رہبرِ کارواں حسین، رہروِ بے گماں حسین
- وہ دل ہی کیا جس میں سمویا نہیں حسین
- حسین: سارے جہاں اندر محبتاں دا سفیر توں ایں
- اسلام دے عظیم مہری نوں ویکھ کے
- ساری دنیا میں جو سویرا ہے
- حیدر دا جیا سوہنے رب دی گھربار لٹاون جان دا اے
- یہ دل بھی حسینی ہے، یہ جان بھی حسینی ہے
- حسین! تیری ادا دے عاشق کدی کسے تے فدا نہیں ہوندے
- کائیاں نبی حسین، ہر پل ہماری نظروں میں شان رکھنا
- کائیاں حسن حسین دا پُچھنا ایں
- سینے تے کھیل دا اے
- خونِ رسول دا اے
- شبیر دے نال دا اے
- السلام اے نورِ اوّل کے نشان
- مصطفیٰ کے دوش پر وہ کھیلنے والا: حسین
- اے حسین ابنِ علی: سب کچھ لٹایا آپ نے
- ہو چکا تھا فیصلہ یہ کتابِ تقدیر کا
- سرِ سنان سج کے جانے والے
- سر میں ہے نوکِ سنان
- بہتے بہتے پکارا لہو
- جرأت: فصیلِ جبر گرانے کو چاہیے
- حرم بھی رو پڑا: ایسی اذان دی تو نے
- توحید پر محیط ہے قربانیِ حسین
- جبر و صبر کے مناظرے کا نام: کربلا
- لہو تیرا جو ان آنکھوں کے
- جو یقین زاد ہے، جو صابر ہے
- آئے ہر سال محرم میرے اشکوں
- جو ڈٹ گئے یزید کی فوجوں کے سامنے
- دینِ حق بچ گیا، قربانیِ جاں ایسی تھی
- تاریخ ہے نگاہ، نظارہ حسین ہے
- فتح کیوں حاصل نہ ہوتی، خون کو
- اس قدر تیری حرارت میرے ایمان میں آئے
- میری آنکھوں میں اس کا لہو آ گیا
- جہاں بھی حق پر چلے گا خنجر
- جب مؤذن چھیڑتا ہے سلسلہ تکبیر کا
- تیرے لہو کو جب لہو میرا بلائے گا
- سب سے اعلیٰ نسب حسین کا ہے
- افق پہ شام کا منظر لہو لہو کیوں ہے؟
- اتنا عظیم اور کوئی سانحہ نہیں
- خشنودیِ رسول ہے اُلفت حسین کی
- روشن ہوا ہے دہر میں ایسا دیا: حسین
- اللہ اللہ! جس نے اپنا سر کٹایا وہ حسین
- صدق و یقین، مہر و محبت: حسین ہیں
- کاتبِ تقدیر نے یہ سانحہ کیسا لکھا؟
- صفحۂ زیست پہ تحریرِ شہادت چمکی
- وفا کا باب آباد تک پڑھا گئے ہیں حسین
- سَنان پہ قاریِ قرآن: سر حسین کا ہے
- پرتَوِ احمدِ مختار: حسین ابنِ علی
- سرکارِ دو جہاں کا نواسہ: حسین ہے
- سبطِ سرکارِ دو عالم کا کہاں ثانی ہے
- لبِ رسول کی دعا: حسین تھا، حسین ہے
- دَیۂ خُلد میں جاہ و حشم حسین کا ہے
- ادنیٰ ہوں میں، عظیم سیادت حسین کی
- حسین ابنِ علی: ماہِ مطلعِ ارشاد
- جہاں میں نورِ حمیت کو عام کس نے کیا؟
- اشقیاء کے نرغے میں یوں حسین تھا تنہا
- حکایتِ غمِ ہستی تمام کہتا ہوں
- لرزی نہ عزم کا عَلَم، خونِ حسین کی قسم
- ہر زمانے میں ہے تابندہ حسین
- عزم و استقلال کا پیکر: حسین ابنِ علی
- چرخِ رضا کے نیّرِ اعظم
- نبی کا پیامی: حسین ابنِ حیدر
- انسانیت کا محسنِ اعظم: حسین ہے
- شہیدانِ ایمان حضرت
- نیویں آئے سوچ، شان اچھیری امام دی
- کَیہڑا دُکھ ہر ویلے سُجھدا اے، کَیہڑے غم وچ آنسُو رُکدے نیں
- سلطانِ کربلا کو ہمارا سلام ہو
- مظلومِ کربلا کی شہادت: میرا سلام
- وجہِ تسکینِ دل و جاں: حسین ابنِ علی
- حُسن و جمال، فکر و شجاعت: تجھے سلام
- یا علی، آپ کی سیرت نے ہمیں...
- شہسوارِ کارزارِ کربلا: میرا سلام
- نبیِ اقدس کی سیرت کی وہی تصویرِ کامل ہیں
- اک دشتِ بےکسی میں جو سوئے میرے امام
- کیسے موت کا ہنگامہ دیکھیے
- خیرات مل رہی ہے یہ مولا حسین سے
- قرآن کی تفسیر: حسین ابنِ علی ہیں
- وہ خاکِ کربلا ہے، زہرا کا پھول دیکھ
- وہ دشتِ نینوا میں شہادت نہ پوچھیے
- کیسے میں لکھ سکوں گا شہادتِ امام کی
- عکسِ ابو تراب ہیں اور جانِ مصطفیٰ
- میرے سُخن کی ابتدا اور انتہا: حسین
- جتنا حسین نام ہے، مولا حسین کا
- صد شکر: امام کی اُلفت میں
- کس کس مقام سے تھا گُذرا سرِ امام
- کس کس کے ہیں جو چاند ستارے حسین سے
- یا حسین! آپ کی شہادت تو...
- کیسے کہوں؟ لے چاند ہیں، تارے حسین ہیں
- اب تک ہے اگر دنیا باقی...
- طرزِ اُلفت، محبت اور وفاداری میں
- سلام ان کے نام پر، نبی کے نورِ عین ہیں
- دل میں امام، آپ کی اُلفت بسائی ہے
- ہمشکلِ مصطفیٰ کی تو سیرت حسین ہے
- قرآن کی آیتوں کی بھی تفسیر ہیں حسین
- حسین! آپ نے امت کی آبرو رکھ لی
- معزز، معطر: حسین ابنِ حیدر
- عارف بَوَد: کسی کے دل عشقِ نسبتِ وِلا
- سبطِ شاہِ دین، نازِ حسن، پیکرِ تنویر
- حسین: گلشنِ تطہیر کی بہارِ مراد
- لاکھ نالہ و شیون، ایک چشمِ تر تنہا
- لافِ نبرد سبطِ پیغمبر کے سامنے
- زبانِ حال سے کہتی ہے کربلا کی زمین
- تھا مہرِ صفت، قافلہ سالار کا چہرہ
- ہو گیا کس سے بھرا خانۂ زہرا خالی؟
- آگ سی دل میں لگی، آنکھ سے چھلکا پانی
- مثلِ شبیر کیوں حق کا پرستار تو ہو؟
- نظر نواز ہیں، دل جگمگا رہے ہیں حسین
- اللہ اہلِ بیتِ پیغمبر کے ساتھ ہے
- غمِ شبیر کا یوں دل پہ اثر ہے کہ نہیں
- رسمِ شبیر جگانے کے لیے
- حسین کا ہو کہیں ذکر، کوئی بات چلے
- ابنِ حیدر کی طرح پاسِ وفا کس نے کیا؟
- جنہیں نصیب ہوئی تن سے سر کی آزادی
- پانی کی جو ایک بوند کو ترسا لبِ دریا
- حسنِ تخلیق کا شاہکار: حسین ابنِ علی
- اے دوست! چھیڑ دَستیِ دورِ جہاں نہ پوچھ
- طاری ہے اہلِ جبر پہ ہیبت حسین کی
- نہ گل کی تمنا، نہ شوقِ چمن ہے
- بس اب تو رہتے ہیں آنکھوں میں اشک آئے ہوئے
- حسین: زبدۂ نسلِ رسول، ابنِ رسول
- جس کی جُرأت پر جہاںِ رنگ و بو سجدے میں ہے
- یوں رن کے درمیان پسرِ مرتضیٰ چلے
- اے حسین ابنِ علی! نورِ نگاہِ مصطفیٰ
- حسین ابنِ علی! تجھ پر شہادت ناز کرتی ہے
- کی دسّاں؟ وچ شہیداں دے، کیڑی اُچّی ذات شبیر دی اے
- کوئی بنائے، کوئی کہے ہے حسین سا
- کی دسّاں؟ کتھوں تک رسائی حسین دی؟
- فخرِ عالم، شاہِ زمیں و زمان
- جہانِ عشق و محبت ہے آستانِ حسین
- حسین کے نامِ پاک پر آج نوری میلہ جو سج گیا ہے
- اُفق و شفق میں ہے ظاہر وہی لہو اب تک
- یہ کون مظلوم ہے کہ جس کی جبین لہو سے دمک رہی ہے؟
- شبیر: کربلا کی حکومت کا تاجدار
- صبا کا سینہ بنی سفینہ، ذرا طبیعت رواں دواں ہو
- تجھ پر میرا سلام ہو، اے دشتِ بے گیاہ
- میرا عقیدہ ہے، بعدِ محشر فلک پہ یہ اہتمام ہوگا
- آدم کی ذات: مرکزِ ایمان بھی نہیں
- رتبے میں ہو نَجی تو وہی شان چاہیے
- انصاف چاہتا ہوں میں دنیا کے ممتحن
- یعقوب کے لیے تو خدا کارساز تھا
- موسیٰ: کلیمِ وقت تھا، محبوبِ خاص و عام
- عیسیٰ بھی ہے خدا کا بڑا مقتدر نبی
- سن لو حدیثِ ختمِ رسل، پیکرِ ہَشم
- دوشِ نبی کہاں، یہ سنان کی فضا کہاں
- صورت اگر ہے عرض، تو جوہر ہیں خَد و خال
- اب فرق بھائیوں کا خیالوں میں کیا ہو بند
- لکھوں تو کیسے لکھوں میں مدحت تیری، حسین
- تن حسین کا ہے آلودہ خوں
- قلّت کا کچھ گِلہ ہے نہ شکوہ کمی کا ہے
- وفا پرستوں میں ننھا پسر حسین کا ہے
- دین کے سارے ضابطے: شبیر
- جس کے سر پر مصطفیٰ کا دستِ شفقت، وہ حسین
- جہانِ عزم و وفا کا پیکر
- یا حسین ابنِ علی – نعتیہ کلام
- میرا بادشاہ حسین ہے – نعتیہ کلام
- نانا دا دین بچایا اے، زینب دے سونے ویران نے
- یہ ہیں محمد کے جگر پارے
- حسین ابنِ حیدر تے جو جو اے بیتی